یہ بولتے تھے ہمارے بڑے کہ نادر جی
📗📘 تک بندی 📘📗
ہمیں دیا گیا الزام بے وفائی کا
رکھا گیا ہے بھرم ایسے آشنائی کا
ترا تو دعوی تھا برسوں کی ہمنوائی کا
"بچھڑنے والے سبب تو بتا جدائی کا"
ہے اپنے چاہنے والوں کی کار فرمائی
کریں تو کیسے کریں شکوہ بے ردائی کا
قدم قدم پہ جنوں نے سرائے کھولیں ،تو
بڑا خسارہ ہوا دشت کی کمائی کا
چراغ سر پھری آندھی سے جا الجھ بیٹھے
ہوا جو شوق کبھی بخت آزمائی کا
کہ بیچ راہ میں عزمِ سفر نے چھوڑا ساتھ
تماشا رہ گیا بن کر شکستہ پائی کا
مآلِ نغمہ سرائی کی فکر کون کرے
ابھی شباب پہ ہے فن غزل سرائی کا
یہ بولتے تھے ہمارے بڑے کہ نادر جی !!
یقیں نہ کرنا کبھی بھی سنی سنائی کا
نادر بھوپالی 🖊️
Reyaan
17-Apr-2022 09:49 PM
Very nice 👍🏼
Reply
Renu
16-Apr-2022 11:56 AM
👌👌
Reply
Gunjan Kamal
16-Apr-2022 11:16 AM
Very nice 👌
Reply